تنہائی

MORE BYپیرزادہ قاسم

    اس صف میں بھی سب دشمن ہیں

    اس صف میں بھی سب دشمن ہیں

    جو آنکھوں میں آنکھیں ڈالے

    اور دل میں نفرت کو پالے

    بارود کے ڈھیر پہ بیٹھے ہیں

    بس اک ساعت کی دوری پر

    اس انساں کی مجبوری پر

    کوئی رونے والا بھی تو نہیں

    کوئی ہنسنے والا بھی تو نہیں

    اس ساعت خوں آشام سے تھی

    وہ ساری رونق منظر کی

    اس ساعت دل آزار سے ہے

    اک زرد اداس سی خاموشی

    اس منظر سے اس منظر تک

    اک منظر تھا اب وہ بھی نہیں

    اک کٹنے والی گردن تھی

    اک خنجر تھا اب وہ بھی نہیں

    اب وہ بھی نہیں جو دیکھتے ہوں

    یہ جیت ہوئی یا ہار ہوئی

    اب وہ بھی نہیں جو کہتے ہوں

    یہ زیست ہمیں آزار ہوئی

    اب وہ بھی نہیں جو لکھتے ہوں

    احوال جسے تاریخ کہیں

    اب یہ بھی نہیں کہ یہ لاشے

    مٹی میں ملیں گلزار بنیں

    اب انساں کھیت نہ حیواں ہیں

    گھر مدرسے دفتر اور نہ ملیں

    انگشت کی اک جنبش سے کہیں

    میزائل داغا جا بھی چکا

    اک جوہری رقص کے تھمنے تک

    جو دور حیات تھا جا بھی چکا

    اس زیست کے بندی خانے سے

    ہم مثل اجل آزاد ہوئے

    یہ کیسے ملک بسائے تھے

    اک لمحے میں برباد ہوئے

    ہے آخری منظر تاراجی

    ہوں جس کا ایک حوالہ میں

    یہ منظر کیسا منظر ہے

    جسے تنہا دیکھنے والا میں

    اب اس صف میں بھی کوئی نہیں

    اب اس صف میں بھی کوئی نہیں

    میں تنہا بیٹھا سوچتا ہوں

    کچھ جینے کا امکان تو ہو

    آ بیٹھے پاس جو دشمن کے

    دشمن ہی سہی انسان تو ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY