ترک دریوزہ

احمد ندیم قاسمی

ترک دریوزہ

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    اب نہ پھیلاؤں گا میں دست سوال

    میں نے دیکھا ہے کہ مجبور ہے تو

    میری دنیا سے بہت دور ہے تو

    تیری قسمت میں جہاں بانی ہے

    میری تقدیر میں حیرانی ہے

    بزم ہستی میں سرافراز ہے تو

    میرے انجام کا آغاز ہے تو

    تو ہے آسودۂ فرش سنجاب

    خلد ہے تیرے شبستاں کا جواب

    مسجد شہر کی محراب کا خم

    تیری تقدیس کی کھاتا ہے قسم

    میں ہوں اک شاعر آوارہ مزاج

    اور ترے فرق پہ اخلاق کا تاج

    میں نے عالم سے بغاوت کی ہے

    تو نے ہر شے سے محبت کی ہے!

    میں نے مذہب پہ بھی الزام دھرا

    تو نے وہموں کو بھی ایماں سمجھا

    گل کہاں اور خس و خاشاک کہاں

    عالم پاک کہاں خاک کہاں

    اب نہ پھیلاؤں گا میں دست سوال

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-ahmad nadiim qaasmii (Pg. 224)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY