ترکیب صرفی

چودھری محمد نعیم

ترکیب صرفی

چودھری محمد نعیم

MORE BYچودھری محمد نعیم

    نوک مینار پہ اٹکی ہوئی قمری سے بھلا

    کیا پتہ خاک چلا

    ''آسماں حد نظر ہے کہ کمیں گاہ رقیب؟''

    میں بتاتا ہوں مگر اپنے سخن بیچ میں ہے

    آسماں ایک کبوتر ہے کہ جس کے خوں کی

    پیاس میں سیکڑوں عقاب اڑا کرتے ہیں

    موت بدکار شرابی ہے پڑوسی میرا

    روز دروازے کے اس پار جو گر جاتا ہے

    زندگی ایک چھچھوندر ہے کہ جس کی بد بو

    بوئے یوسف میں بھی ہے گریۂ یعقوب میں بھی

    علم سرکس کے مداری کے دہن کا شعلہ

    ذائقہ منہ کا بدلنے کو بہت کافی ہے

    اور میں ایک حسیں خواب کہ جس میں گم ہے

    خواب دیکھنے والا وہ کمیں گہہ کا رقیب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY