تیرے خوشبو میں بسے خط

راجندر ناتھ رہبر

تیرے خوشبو میں بسے خط

راجندر ناتھ رہبر

MORE BY راجندر ناتھ رہبر

    پیار کی آخری پونجی بھی لٹا آیا ہوں

    اپنی ہستی کو بھی لگتا ہے مٹا آیا ہوں

    عمر بھر کی جو کمائی تھی گنوا آیا ہوں

    تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں

    آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں

    تو نے لکھا تھا جلا دوں میں تری تحریریں

    تو نے چاہا تھا جلا دوں میں تری تصویریں

    سوچ لیں میں نے مگر اور ہی کچھ تدبیریں

    تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں

    آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں

    تیرے خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے

    پیار میں ڈوبے ہوئے خط میں جلاتا کیسے

    تیرے ہاتھوں کے لکھے خط میں جلاتا کیسے

    تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں

    آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں

    جن کو دنیا کی نگاہوں سے چھپائے رکھا

    جن کو اک عمر کلیجے سے لگائے رکھا

    دین جن کو جنہیں ایمان بنائے رکھا

    جن کا ہر لفظ مجھے یاد ہے پانی کی طرح

    یاد تھے مجھ کو جو پیغام زبانی کی طرح

    مجھ کو پیارے تھے جو انمول نشانی کی طرح

    تو نے دنیا کی نگاہوں سے جو بچ کر لکھے

    سالہا سال مرے نام برابر لکھے

    کبھی دن میں تو کبھی رات کو اٹھ کر لکھے

    تیرے رومال ترے خط ترے چھلے بھی گئے

    تیری تصویریں ترے شوخ لفافے بھی گئے

    ایک یگ ختم ہوا یگ کے فسانے بھی گئے

    تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں

    آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں

    کتنا بے چین انہیں لینے کو گنگا جل تھا

    جو بھی دھارا تھا انہیں کے لیے وہ بے کل تھا

    پیار اپنا بھی تو گنگا کی طرح نرمل تھا

    تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں

    آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    RECITATIONS

    راجندر ناتھ رہبر

    راجندر ناتھ رہبر

    راجندر ناتھ رہبر

    تیرے خوشبو میں بسے خط راجندر ناتھ رہبر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY