تیری یاد

جگن ناتھ آزاد

تیری یاد

جگن ناتھ آزاد

MORE BYجگن ناتھ آزاد

    رات پھر تیرے خیالوں نے جگایا مجھ کو

    ٹمٹماتی ہوئی یادوں کا ذرا سا شعلہ

    آج بھڑکا تو پھر اک شعلۂ جوالہ بنا

    عقل نے تجھ کو بھلانے کے کیے لاکھ جتن

    لے گئے مجھ کو کبھی مصر کے بازاروں میں

    کبھی اٹلی کبھی اسپین کے گلزاروں میں

    بلجیم کے، کبھی ہالینڈ کے مے خانوں میں

    کبھی پیرس، کبھی لندن کے صنم خانوں میں

    اور میں عقل کی باتوں میں کچھ ایسا آیا

    میں یہ سمجھا کہ تجھے بھول چکا ہوں شاید

    دل نے تو مجھ سے کئی بار کہا وہم ہے یہ

    اس طرح تجھ کو بھلانا کوئی آسان نہیں

    میں مگر وہم میں کچھ ایسا گرفتار رہا

    میں یہ سمجھا کہ تجھے بھول چکا ہوں شاید

    کل مگر پھر تری آواز نے تڑپا ہی دیا

    عالم خواب سے گویا مجھے چونکا ہی دیا

    اور پھر تیرا ہر اک نقش مرے سامنے تھا

    تری زلفیں، تری زلفوں کی گھٹاؤں کا سماں

    تری چتون، تری چتون وہی باطن کا سراغ

    ترے عارض وہی خوش رنگ مہکتے ہوئے پھول

    تری آنکھیں وہ شرابوں کے چھلکتے ہوئے جام

    ترے لب جیسے سجائے ہوئے دو برگ گلاب

    تری ہر بات کا انداز تری چال کا حسن

    ترے آنے کا نظارا ترے جانے کا سماں

    ترا ہر نقش تو کیا تو ہی مرے سامنے تھی

    دل نے جو بات کئی بار کہی تھی مجھ سے

    شب کے انوار میں بھی دن کے اندھیروں میں بھی

    مرے احساس میں اب گونج رہی تھی پیہم

    اس طرح تجھ کو بھلانا کوئی آسان نہیں

    دل حقیقت ہے کوئی خواب پریشاں تو نہیں

    یاد مانند خرد مصلحت اندیش نہیں

    ڈوبتی یہ نہیں ہالینڈ کے مے خانوں میں

    گم نہیں ہوتی یہ پیرس کے صنم خانوں میں

    یہ بھٹکتی نہیں اسپین کے گلزاروں میں

    بھولتی راہ نہیں مصر کے بازاروں میں

    یاد مانند خرد مصلحت اندیش نہیں

    عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے

    یاد کا آج بھی انداز وہی ہے کہ جو تھا

    آج بھی اس کا ہے آہنگ وہی رنگ وہی

    بھیس ہے اس کا وہی طور وہی ڈھنگ وہی

    پھر اسی یاد نے کل رات جگایا مجھ کو

    اور پھر تیرا ہر اک نقش مرے سامنے تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY