طفلاں کی تو کچھ تقصیر نہ تھی

فہمیدہ ریاض

طفلاں کی تو کچھ تقصیر نہ تھی

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    اے دوست پرانے پہچانے

    ہم کتنی مدت بعد ملے

    اور کتنی صدیوں بعد ملی

    یہ ایک نگاہ مہر و سخا

    جو اپنی سخا سے خود پر نم

    بیٹھو تو ذرا

    بتلاؤ تو کیا

    یہ سچ ہے میرے تعاقب میں

    پھرتا ہے ہجوم سنگ زناں؟

    کیا نیل بہت ہیں چہرے پر؟

    کیا کاسۂ سر ہے خون سے تر؟

    پیوند قبا دشنام بہت

    پیوست جگر الزام بہت

    یہ نظر کرم کیوں ہے پر نم؟

    جب نکلے کوئے ملامت میں

    اک غوغا تو ہم نے بھی سنا

    طفلاں کی تو کچھ تقصیر نہ تھی

    ہم آپ ہی تھے یوں خود رفتہ

    مدہوشی نے مہلت ہی نہ دی

    ہم مڑ کے نظارہ کر لیتے

    بچنے کی تو صورت خیر نہ تھی

    درماں کا ہی چارہ کر لیتے

    پل بھر بھی ہمارے کار جنوں

    غفلت جو گوارہ کر لیتے

    RECITATIONS

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    طفلاں کی تو کچھ تقصیر نہ تھی فہمیدہ ریاض

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY