ٹیپو کی آواز

آل احمد سرور

ٹیپو کی آواز

آل احمد سرور

MORE BYآل احمد سرور

    گو رات کی جبیں سے سیاہی نہ دھل سکی

    لیکن مرا چراغ برابر جلا کیا

    جس سے دلوں میں اب بھی حرارت کی ہے نمود

    برسوں مری لحد سے وہ شعلہ اٹھا کیا

    پھیکا ہے جس کے سامنے عکس جمال یار

    عزم جواں کو میں نے وہ غازہ عطا کیا

    میرے لہو کی بوند میں غلطاں تھیں بجلیاں

    خاک دکن کو میں نے شرر آشنا کیا

    ساحل کی آنکھ میں مگر آئی نہ کچھ کمی

    دریا میں لاکھ لاکھ تلاطم ہوا کیا

    خواب گراں سے غنچوں کی آنکھیں نہ کھل سکیں

    گو شاخ گل سے نغمہ برابر اٹھا کیا

    یہ بزم ایسی سوئی کہ جاگی نہ آج تک

    فطرت کا کارواں ہے کہ آگے بڑھا کیا

    مارا ہوا ہوں گو خلش انتظار کا

    مشتاق آج بھی ہوں پیام بہار کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY