تم آسماں کی طرف نہ دیکھو

صوفی تبسم

تم آسماں کی طرف نہ دیکھو

صوفی تبسم

MORE BYصوفی تبسم

    تم آسماں کی طرف نہ دیکھو

    یہ چاند یہ کہکشاں یہ تارے

    یوں ہی چمکتے رہیں گے سارے

    یوں ہی ضیا بار ہوں گے دائم

    یہی رہے گا نظام قائم

    تم آسماں کو ہو دیکھتے کیا

    کرو نظارہ دل حزیں کا

    غم محبت کے داغ دیکھو

    یہ ٹمٹماتے چراغ دیکھو

    ہے چند روزہ نمود ان کی

    نہیں ہے کچھ اعتبار ہستی

    یہ شمع خاموش ہو نہ جائے

    یہ بخت بیدار سو نہ جائے

    تم آسماں کی طرف نہ دیکھو

    یوں ہی سدا جلوہ بار ہوگی

    ہزار کیا لاکھ بار ہوگی

    ہٹا لو آنکھ اپنی چرخ پر سے

    نظر ملاؤ مری نظر سے

    ان آنسوؤں کی بہار دیکھو

    رواں ہے آبشار دیکھو

    ہے چند ہی دن کی یہ روانی

    رہے گی کب تک یہ زندگانی

    یہ قلب خوں ہو کے بہہ نہ جائے

    یہ چشمہ بہہ بہہ کے رہ نہ جائے

    تم آسماں کی طرف نہ دیکھو

    مآخذ:

    • کتاب : (Sau Baar Chaman Mahka)Kulliyat-e- Sufi Tabassum (Pg. 266)
    • Author : Sufi Ghulam Mustafa Tabassum
    • مطبع : Alhamd Publications, Lahore (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY