تم بھی

ادا جعفری

تم بھی

ادا جعفری

MORE BYادا جعفری

    مدتوں بعد آئی ہو تم

    اور تمہیں اتنی فرصت کہاں

    ان کہے حرف بھی سن سکو

    آرزو کی وہ تحریر بھی پڑھ سکو

    جو ابھی تک لکھی ہی نہیں جا سکی

    اتنی مہلت کہاں

    میرے باغوں میں جو کھل نہ پائے ابھی

    ان شگوفوں کی باتیں کرو

    درد ہی بانٹ لو

    میرے کن ماہتابوں سے تم مل سکیں

    کتنی آنکھوں کے خوابوں سے تم مل سکیں

    ہاں تمہاری نگاہ ستائش نے

    گھر کی سب آرائشیں دیکھ لیں

    تن کی آسائشیں دیکھ لیں

    میرے دل میں جو پیکاں ترازو ہوئے

    تم کو بھی

    لالہ و گل کے بے ساختہ استعارے لگے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    تم بھی عذرا نقوی

    مأخذ :
    • کتاب : Muntakhab Shahkar Nazmon Ka Album) (Pg. 248)
    • Author : Munavvar Jameel
    • مطبع : Haji Haneef Printer Lahore (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY