تم جو سیانے ہو گن والے ہو

ادا جعفری

تم جو سیانے ہو گن والے ہو

ادا جعفری

MORE BYادا جعفری

    ہیرے موتی لعل جواہر رولے بھر بھر تھالی

    اپنا کیسہ اپنا دامن اپنی جھولی خالی

    اپنا کاسہ پارہ پارہ اپنا گریباں چاک

    چاک گریباں والے لوگو تم کیسے گن والے ہو

    کانٹوں سے تلوے زخمی ہیں روح تھکن سے چور

    کوچے کوچے خوشبو بکھری اپنے گھر سے دور

    اپنا آنگن سونا سونا اپنا دل ویران

    پھولوں کلیوں کے رکھوالو تم کیسے گن والے ہو

    طوفانوں سے ٹکر لے لی جب تھامے پتوار

    پیار کے ناطے جس کشتی کے لاکھوں کھیون ہار

    ساحل ساحل شہر بسائے ساگر ساگر دھوم

    مانجھی اپنی نگری بھولے تم کیسے گن والے ہو

    آنکھوں کرنیں ماتھے سورج اور کٹیا اندھیاری

    کیسے لکھ لٹ راجہ ہو تم سمجھیں لوگ بھکاری

    شیشہ سچا اجلا جب تک اونچا اس کا بھاؤ

    اپنا مول نہ جانا تم نے کیسے گن والے ہو

    جن کھیتوں کا رنگ نکھارے جلتی تپتی دھوپ

    ساون کی پھواریں بھی چاہیں ان کھیتوں کا روپ

    تم کو کیا گھاٹا دل والو

    تم جو سچے ہو گن والے ہو

    مأخذ :
    • کتاب : auraq salnama magazines (Pg. e-257 p-245)
    • Author : Wazir Agha,Arif Abdul Mateen
    • مطبع : Daftar Mahnama Auraq Lahore (1967)
    • اشاعت : 1967

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY