تم

MORE BYکیفی اعظمی

    شگفتگی کا لطافت کا شاہکار ہو تم

    فقط بہار نہیں حاصل بہار ہو تم

    جو ایک پھول میں ہے قید وہ گلستاں ہو

    جو اک کلی میں ہے پنہاں وہ لالہ زار ہو تم

    حلاوتوں کی تمنا، ملاحتوں کی مراد

    غرور کلیوں کا، پھولوں کا انکسار ہو تم

    جسے ترنگ میں فطرت نے گنگنایا ہے

    وہ بھیرویں ہو، وہ دیپک ہو وہ ملہار ہو تم

    تمہارے جسم میں خوابیدہ ہیں ہزاروں راگ

    نگاہ چھیڑتی ہے جس کو وہ ستار ہو تم

    جسے اٹھا نہ سکی جستجو وہ موتی ہو

    جسے نہ گوندھ سکی آرزو وہ ہار ہو تم

    جسے نہ بوجھ سکا عشق وہ پہیلی ہو

    جسے سمجھ نہ سکا پیار بھی وہ پیار ہو تم

    خدا کرے کسی دامن میں جذب ہو نہ سکیں

    یہ میرے اشک حسیں جن سے آشکار ہو تم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    تم نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY