تو میرا ہے

آنس معین

تو میرا ہے

آنس معین

MORE BYآنس معین

    تو میرا ہے

    تیرے من میں چھپے ہوئے سب دکھ میرے ہیں

    تیری آنکھ کے آنسو میرے

    تیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میری

    تو میرا ہے

    ہر وہ جھونکا

    جس کے لمس کو

    اپنے جسم پہ تو نے بھی محسوس کیا ہے

    پہلے میرے ہاتھوں کو

    چھو کر گزرا تھا

    تیرے گھر کے دروازے پر

    دستک دینے والا

    ہر وہ لمحہ جس میں

    تجھ کو اپنی تنہائی کا

    شدت سے احساس ہوا تھا

    پہلے میرے گھر آیا تھا

    تو میرا ہے

    تیرا ماضی بھی میرا تھا

    آنے والی ہر ساعت بھی میری ہوگی

    تیرے تپتے عارض کی دوپہر ہے میری

    شام کی طرح گہرے گہرے یہ پلکوں سائے ہیں میرے

    تیرے سیاہ بالوں کی شب سے دھوپ کی صورت

    وہ صبحیں جو کل جاگیں گی

    میری ہوں گی

    تو میرا ہے

    لیکن تیرے سپنوں میں بھی آتے ہوئے یہ ڈر لگتا ہے

    مجھ سے کہیں تو پوچھ نہ بیٹھے

    کیوں آئے ہو

    میرا تم سے کیا ناطہ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY