امید و بیم

شہریار

امید و بیم

شہریار

MORE BYشہریار

    میں نے اکثر انہیں آنکھوں کے دریچے سے تجھے

    جھانکتے دیکھا ہے

    جب لغزش انفاس بڑھی

    تند و پر شور صداؤں کا ہجوم

    نور افروز خلاؤں سے ہم آغوش ہوا

    میں نے اکثر انہیں آنکھوں کے دریچے میں تجھے

    ڈوبتے دیکھا ہے

    جب تلخئی احساس گھٹی

    خامشی رخت سفر باندھ چکی

    تند و پر شور صداؤں کا ہجوم

    ظلمت انگیز زمیں دوز گپھاؤں کا جگر

    چیر کے

    اونگھتی تنہائی میں تحلیل ہوا

    میں نے تو نے انہیں آنکھوں کے دریچے کے قریب

    روشنی روتے ہوئے نور کے میناروں کو

    اشک بنتے ہوئے گرتے ہوئے دیکھا ہے

    تو کیوں

    آندھیاں چلنے لگیں

    خوف سے کانپ اٹھیں باز دریچوں کی لویں؟

    مآخذ
    • کتاب : sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 65)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY