Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اردو

شمس رمزی

اردو

شمس رمزی

MORE BYشمس رمزی

    میں اردو ہوں

    مجھے غیروں سے کیا خطرہ

    کبھی دشمن سے ہوتا ہی نہیں خطرہ کسی کو بھی

    سبب تم بھی سمجھتے ہو

    کہ دشمن ہر گھڑی ہر پل

    مقابل ہی رہا کرتا ہے دشمن کے

    مقابل سے تو میدانوں میں اکثر جنگ ہوتی ہے

    نتیجہ جنگ کا تم بھی سمجھتے ہو

    محاذ جنگ پر خطر ہے نہیں ہوتا

    شکست و فتح ہوتی ہے

    تو پھر خطرہ کہاں سے ہے

    سنو روداد غم

    دل تھام کر سننا ذرا لوگو

    مجھے خطرہ ہے اپنوں سے

    مجھے خطرہ ہے شاعر اور دانشور ادیبوں سے

    مجھے نقاد سے خطرہ محقق سے مجھے خطرہ

    یہ سارے لوگ وہ ہیں جو تعلق سے مرے اب تک

    زمیں سے عرش تک

    دعوے تو کرتے ہیں بلندی کے

    محافظ خود کو اردو کا کہا کرتے ہیں یہ اکثر

    یہ دعویٰ سب بجا لیکن

    کوئی پوچھے ذرا ان سے

    تمہارے پیارے بچوں میں کوئی ایسا بھی بچہ ہے

    کہ جس کو آپ نے اردو سے بہرہ ور کیا اب تک

    اگر کوئی یہ پوچھے گا

    شکن ماتھے پہ آئے گی نفی میں سر جھکائیں گے

    یہی قاتل تو ہیں میرے

    یہی تو میرے اپنے ہیں

    انہیں سے مجھ کو خطرہ ہے

    انہیں پہچان لو لوگو

    انہیں پہچان لو لوگو

    مأخذ :
    • کتاب : Gubar-e-shams (Pg. 227)
    • Author : Shams Ramzi
    • مطبع : Urdu Tahzeeb, Delhi (1997)
    • اشاعت : 1997

    related content

    نظم

    چاہتوں کا جہان ہے اردو

    چاہتوں کا جہان ہے اردو

    کرشن موہن

    موضوعات

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے