عروس البلاد

اختر الایمان

عروس البلاد

اختر الایمان

MORE BY اختر الایمان

    وسیع شہر میں اک چیخ کیا سنائی دے

    بسوں کے شور میں ریلوں کی گڑگڑاہٹ میں

    چہل پہل میں بھڑوں جیسی بھنبھناہٹ میں

    کسی کو پکڑو سر راہ مار دو چاہے

    کسی عفیفہ کی عصمت اتار دو چاہے!

    وسیع شہر میں اک چیخ کیا سنائی دے!

    عظیم شہر بڑے کاموں کے لیے ہیں میاں

    وزیر اعلی کی تقریر، لیڈروں کے جلوس

    سیاستوں کے مظاہر، خلوص بہر خلوص

    یہ رت جگوں کی جگہ، ناؤ نوش کا گڑھ ہے

    یہ تم سے کس نے کہا علم و ہوش کا گڑھ ہے

    ابھی ابھی شہ قفقاز آئے ہیں دیکھو

    معززین عروس البلاد سب مل کر

    سپاس نامہ انہیں اس طرح کریں گے پیش

    کہ جیسے دل کی کلی پھول ہو گئی کھل کر

    پھر اس کے بعد کسی بینک کے بڑے کرتا

    کوئی صفیر کسی دیش کے نئے مکھیا

    مشیر صنعتی منصوبہ بندیوں کے لیے

    جتن ثقافتی آئینہ سازیوں کے لیے

    بڑے پلان، بڑی یوجنا، بڑی باتیں

    ضیافتیں، بڑے ہوٹل، بڑی بڑی گھاتیں!

    عظیم شہر بڑے کاموں کے لیے ہے میاں!

    یہاں مزار ہیں ان کے بھی جن کے نام نہیں

    سنہری شہر کی تسخیر کرنے آئے تھے

    انہیں شکم سے بہت دور آگے جانا تھا

    وہ اس جہان کی تعمیر کرنے آئے تھے!

    بڑے دماغ تھے طباع تھے ذہین تھے سب

    مگر سیاست دنیا میں کم ترین تھے سب

    عظیم شہر بڑے کاموں کے لیے ہیں میاں

    شکست دل کوئی راکٹ ہے جو دکھائی دے

    عظیم شہر میں اک چیخ کیا سنائی دے!

    RECITATIONS

    اختر الایمان

    اختر الایمان

    اختر الایمان

    عروس البلاد اختر الایمان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY