وبا کے دنوں میں

نامعلوم

وبا کے دنوں میں

نامعلوم

MORE BYنامعلوم

    زمین گونگی ہو رہی ہے

    پرندے چپ سادھے

    اجڑی شاخوں پہ بیٹھے نوحہ کناں ہیں

    رات کے بدن پہ

    نیند کے پیالے اوندھے پڑے بلک رہے ہیں

    عورتوں کے رحم میں

    زندہ لاشوں کے گلنے سڑنے سے تعفن پھیل رہا ہے

    خواب بستیاں اجڑ رہی ہیں

    سمندروں نے دیکھا

    موت دانت نکوستی دندناتی پھرتی ہے

    بڑھیا کھڑکی سے جھانکتے چیخی

    کوئی مذہب

    اسے لگام کیوں نہیں ڈالتا

    کیسی شتر بے مہار ہوئی پھرتی ہے

    کوئی دعا اس کا گلا کیوں نہیں گھونٹتی

    اس منحوس کو تعویذ گھول کر پلاؤ

    درباروں میں جھاڑو دیتی

    بےوقوف بڑھیا

    فلم کا وہی کردار ہٹ ہوتا ہے

    جس نے

    ریہرسل کی ہو

    کھڑکی میں سناٹا پھیل گیا

    موت نے اپنا گیت جاری رکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY