وقت

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    سر برآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں

    چاند بلور کی ٹوٹی ہوئی چوڑی کی طرح اٹکا ہے

    دامن کوہ کی اک بستی میں

    ٹمٹماتے ہیں مزاروں پہ چراغ

    آسماں سرمئی فرغل میں ستارے ٹانکے

    سمٹا جاتا ہے جھکا آتا ہے

    وقت بے زار نظر آتا ہے

    سر برآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں

    صبح کی نقرئی تنویر رچی جاتی ہے

    دامن کوہ میں بکھرے ہوئے کھیت

    لہلہاتے ہیں تو دھرتی کے تنفس کی صدا آتی ہے

    آسماں کتنی بلندی پہ ہے اور کتنا عظیم

    نئے سورج کی شعاعوں کا مصفا آنگن

    وقت بیدار نظر آتا ہے

    سر برآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں

    آفتاب ایک الاؤ کی طرح روشن ہے

    دامن کوہ میں چلتے ہوئے ہل

    سینۂ دہر پہ انسان کے جبروت کی تاریخ رقم کرتے ہیں

    آسماں تیز شعاعوں سے ہے اس درجہ گداز

    جیسے چھونے سے پگھل جائے گا

    وقت تیار نظر آتا ہے

    سر برآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں

    زندگی کتنے حقائق کو جنم دیتی ہے

    دامن کوہ میں پھیلے ہوئے میدانوں پر

    ذوق تخلیق نے اعجاز دکھائے ہیں لہو اگلا ہے

    آسماں گردش ایام کے ریلے سے ہراساں تو نہیں

    خیر مقدم کے بھی انداز ہوا کرتے ہیں

    وقت کی راہ میں موڑ آتے ہیں منزل تو نہیں آ سکتی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وقت نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY