وقت کی ڈبیا

افسر میرٹھی

وقت کی ڈبیا

افسر میرٹھی

MORE BYافسر میرٹھی

    اچھی اماں وقت کی ڈبیا جو کھل جائے کہیں

    اور یہ گھنٹے اور منٹ سارے نکل کر بھاگ جائیں

    تب مجھے مکتب نہ جانے پر برا کہنا نہ تم

    تب تو مکتب کا نہ ہوگا وقت ہی گویا کبھی

    جس قدر گھڑیاں ہیں دنیا بھر میں وہ تو سب کی سب

    دیکھ لینا دس بجانا ہی نہ جانیں گی کبھی

    دیکھو اماں اب جو سونے کے لیے لیٹوں نہ میں

    تم نہ اب مجھ پر خفا ہونا خطا میری نہیں

    کیسے سوؤں میں نشاں تک بھی نہ ہو جب رات کا

    میری اماں اب تو راتیں ساری غائب ہو گئیں

    اچھی اماں آج تو اک بات میری مان لو

    بس کہانی پر کہانی مجھ سے تم کہتی رہو

    تم کہو گی یہ کہانی ختم ہوتی ہی نہیں

    ختم ہو جائے کہانی رات جب آگے بڑھے

    دیکھ لینا آج سونے کو نہ ہوگی دیر کچھ

    وقت کی ڈبیا کے کھل جانے سے راتیں اڑ گئیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY