وصیت

MORE BYکیفی اعظمی

    INTERESTING FACT

    (اپنے بیٹے بابا کے نام)

    مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دینا

    جنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیں

    اور ایسے مطمئن ہیں جیسے ان کو

    نہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ کوئی دیکھ سکتا ہے

    مگر یہ وقت کی جاسوس نظریں

    جو پیچھا کرتی ہیں سب کا ضمیروں کے اندھیرے تک

    اندھیرا نور پر رہتا ہے غالب بس سویرے تک

    سویرا ہونے والا ہے

    (۲)

    مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دینا

    کچھ اندھے سورما جو تیر اندھیرے میں چلاتے ہیں

    صدا دشمن کا سینہ تاکتے خود زخم کھاتے ہیں

    لگا کر جو وطن کو داؤ پر کرسی بچاتے ہیں

    بھنا کر کھوٹے سکے دھرم کے جو پن کماتے ہیں

    جتا دو ان کو ایسے ٹھگ کبھی پکڑے بھی جاتے ہیں

    (۳)

    مرے بیٹے انہیں تھوڑی سی خودداری بھی دے دینا

    جو حاکم قرض لے کے اس کو اپنی جیت کہتے ہیں

    جہاں رکھتے ہیں سونا رہن خود بھی رہن رہتے ہیں

    اور اس کو بھی وہ اپنی جیت کہتے ہیں

    شریک جرم ہیں یہ سن کے جو خاموش رہتے ہیں

    قصور اپنا یہ کیا کم ہے کہ ہم سب ان کو سہتے ہیں

    (۴)

    مرے بیٹے مرے بعد ان کو میرا دل بھی دے دینا

    کہ جو شر رکھتے ہیں سینے میں اپنے دل نہیں رکھتے

    ہے ان کی آستیں میں وہ بھی جو قاتل نہیں رکھتے

    جو چلتے ہیں انہیں رستوں پہ جو منزل نہیں رکھتے

    یہ مجنوں اپنی نظروں میں کوئی محمل نہیں رکھتے

    یہ اپنے پاس کچھ بھی فخر کے قابل نہیں رکھتے

    ترس کھا کر جنہیں جنتا نے کرسی پر بٹھایا ہے

    وہ خود سے تو نہ اٹھیں گے انہیں تم ہی اٹھا دینا

    گھٹائی ہے جنہوں نے اتنی قیمت اپنے سکے کی

    یہ ذمہ ہے تمہارا ان کی قیمت تم گھٹا دینا

    جو وہ پھیلائیں دامن یہ وصیت یاد کر لینا

    انہیں ہر چیز دے دینا پر ان کو ووٹ مت دینا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY