ویرانی

قمر جمیل

ویرانی

قمر جمیل

MORE BYقمر جمیل

    شہر کی گلیاں گھوم رہی ہیں میرے قدم کے ساتھ

    ایسے سفر میں اتنی تھکن میں کیسے کٹے گی رات

    خواب میں جیسے گھر سے نکل کے گھوم رہا ہو کوئی

    رات میں اکثر یوں بھی پھری ہے تیرے لیے اک ذات

    چند بگولے خشک زمیں پر اور ہوائیں تیز

    اس صحرا میں کیسی بہاریں کیسی بھری برسات

    دھوم مچائیں بستی بستی سوچ رہے تھے آپ

    دیکھا کن کن ویرانوں میں لے کے گئے حالات

    دن میں قیامت غم خواروں کی رات میں یاد یار

    چند نفس کی مہلت میں بھی اتنے کٹھن دن رات

    مأخذ :
    • کتاب : khvaab numaa (Pg. 26)
    • Author : qamar jameel

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY