وہ عالم خواب کا تھا

حارث خلیق

وہ عالم خواب کا تھا

حارث خلیق

MORE BYحارث خلیق

    وہ عالم خواب کا تھا

    سو رہے تھے سب

    مگر اک وہ

    اکیلا جاگ اٹھا تھا

    کچھ ایسے نیند ٹوٹی تھی

    کہ ہر ہر عضو بے کل تھا

    بدن سارا

    تغیر کی طلب میں

    ماہی بے آب کی صورت تڑپتا تھا

    جنوں‌‌‌ و بے قراری نے

    رگوں میں بجلیاں بھر دیں

    ہزاروں سال سے رکھے ہوئے پتھر کو سرکایا

    وہ اپنے غار سے باہر نکل آیا

    نگاہیں روشنی سے چار ہو کر جوں ہی پلٹیں

    اس نے خود کو

    زندگی سے وصل کے امکان میں پایا

    بہت لمبا بہت دشوار رستہ طے کیا اس نے

    نہ جانے کتنے دریا کوہ و صحرا درمیاں آئے

    طلسم و ہفت خواں آئے

    تب اس شہر بلند و بالا و پر کیف میں پہنچا

    جہاں انسان اور حیوان سب بیدار رہتے تھے

    بڑے بے خار ہوتے تھے

    زباں تھی سوکھ کے کانٹا

    پپوٹے پھول کے کپا

    کہ اس پر جاگتے رہنے کا ایسا شوق غالب تھا

    بدن وحشت کا طالب تھا

    مگر یہ کیا

    اسے معلوم یہ کب تھا

    ذرا جو مختلف ہو

    شہر بیداراں میں اس پر کیا گزرتی ہے

    دکانیں جن کی اونچی تھیں

    اسے مخبر سمجھتے تھے

    جو ماشہ خور تھے پھیری لگاتے تھے

    اسے پاگل بتاتے تھے

    وہاں بازار میں کوئی اسے کچھ بھی نہ دیتا تھا

    جو سکے پاس تھے اس کے انہیں کوئی نہ لیتا تھا

    وہ واپس جا نہ سکتا تھا

    خدائے لم یزل کے حکم سے

    اس غار کا منہ بند تھا پھر سے

    عجب بے یاوری ناآشنائی تھی

    سزا محض اس نے

    آنکھ کھل جانے کی پائی تھی

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq ki taqveem me.n (Pg. 187)
    • Author : HARIS KHALEEQ
    • مطبع : Hoori Nurani, Maktaba Daniyal, Victoria Chaimber 2 (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY