وہ اور میں....

فہیم شناس کاظمی

وہ اور میں....

فہیم شناس کاظمی

MORE BYفہیم شناس کاظمی

    اس کو مرے خوابوں کا رستہ

    جانے کس نے دکھایا ہے

    میں جب آدھی رات کو تھک کر

    اپنے آپ پہ گرتا ہوں

    وہ چپکے سے آ جاتی ہے

    سبز سنہرے خواب لیے

    نرم گلابی ہاتھوں سے مرے بالوں کو سلجھاتی ہے

    دھیمے سروں میں

    فیضؔ کی نظم سناتی ہے

    میں اس کو دیکھتا رہتا ہوں

    نیند میں جاگتا رہتا ہوں

    اور وہ میرے بازو پر

    سر رکھ کر سو جاتی ہے

    سپنوں میں کھو جاتی ہے

    وہ خواب میں ہنستی رہتی ہے

    میں جاگ کے روتا رہتا ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : Raah-daari mein gunjti nazm (rekhta website) (Pg. 183)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY