وہ باغ میں میرا منتظر تھا

پروین شاکر

وہ باغ میں میرا منتظر تھا

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    وہ باغ میں میرا منتظر تھا

    اور چاند طلوع ہو رہا تھا

    زلف شب وصل کھل رہی تھی

    خوشبو سانسوں میں گھل رہی تھی

    آئی تھی میں اپنے پی سے ملنے

    جیسے کوئی گل ہوا سے کھلنے

    اک عمر کے بعد میں ہنسی تھی

    خود پر کتنی توجہ دی تھی!

    پہنا گہرا بسنتی جوڑا

    اور عطر سہاگ میں بسایا

    آئینے میں خود کو پھر کئی بار

    اس کی نظروں سے میں نے دیکھا

    صندل سے چمک رہا تھا ماتھا

    چندن سے بدن مہک رہا تھا

    ہونٹوں پہ بہت شریر لالی

    گالوں پہ گلال کھیلتا تھا

    بالوں میں پروئے اتنے موتی

    تاروں کا گمان ہو رہا تھا

    افشاں کی لکیر مانگ میں تھی

    کاجل آنکھوں میں ہنس رہا تھا

    کانوں میں مچل رہی تھی بالی

    بانہوں سے لپٹ رہا تھا گجرا

    اور سارے بدن سے پھوٹتا تھا

    اس کے لیے گیت جو لکھا تھا!

    ہاتھوں میں لیے دئیے کی تھالی

    اس کے قدموں میں جا کے بیٹھی

    آئی تھی کہ آرتی اتاروں

    سارے جیون کو دان کر دوں!

    دیکھا مرے دیوتا نے مجھ کو

    بعد اس کے ذرا سا مسکرایا

    پھر میرے سنہرے تھال پر ہاتھ

    رکھا بھی تو اک دیا اٹھایا

    اور میری تمام زندگی سے

    مانگی بھی تو ایک شام مانگی

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyaat-e-maahe tamaam(inkaar) (Pg. 125)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے