وہ بات

شہرام سرمدی

وہ بات

شہرام سرمدی

MORE BYشہرام سرمدی

    وہ بات اگر میں خدا سے کہتا

    میں جانتا ہوں وہ سن بھی لیتا

    (جواب دینے کی کوئی میعاد طے نہیں ہو

    تو صرف سننے میں حرج کیا ہے)

    میں مانتا ہوں

    جواب وہ ایک روز دیتا

    پہ خواہشوں نے مری سماعت کو معتبر ہی کہاں ہے رکھا

    یہ خواہشیں ہیں کہ میرے کانوں میں روئی سا کچھ نہاں ہے رکھا

    میں سوچتا ہوں

    وہ بات اگر میں خدا سے کہتا

    تو مصلحت کا شکار ہوتی

    فضول بے اعتبار ہوتی

    میں مصلحت کا نہیں مخالف

    پہ جانتا ہوں کسی بھی شے کے

    ہر ایک پہلو پہ غور ہوگا

    تو مصلحت کا شکار ہوگی

    تلاش ہر اعتبار بے اعتبار ہوگی

    میں چاہتا ہوں

    کہ مشورہ بھی کروں کسی سے

    پہ عقل انسان

    (عقل ناقص)

    ہر ایک پہلو پہ غور

    خود ایک مضحکہ ہے

    یہاں سے آگے جو مرحلہ ہے

    وہ فہم انساں سے ماورا ہے

    خیال آتا ہے اکثر اکثر

    خلیفۃ الارض ہوں

    اسی سطح پر جو سلجھاؤں بات کو میں

    مگر خلافت کو کیا ولایت ملی ہوئی ہے

    مزید یہ کیا عوام و اشراف کی حمایت ملی ہوئی ہے

    اگر نہیں تو یہ جزو افکار کس لیے ہے

    یہ فکر بے کار کس لیے ہے

    وہ بات یوں اہم ہے

    کہ میرے وجود میں رونما ہوئی ہے

    وجود کی اک بنا ہوئی ہے

    وہ بات مجھ سے جدا نہیں ہے

    وہ بات سچ ہے وہ محض اک مرحلہ نہیں ہے

    وہ بات میں ہوں

    میں خود کو ضائع نہیں کروں گا

    مآخذ:

    • کتاب : Na Mau'ud (Pg. 28)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY