Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ سب میرے اپنے تھے

میں تنہا تھا سرد ہوا تھی

رات کے پچھلے پہر کی کالی خاموشی تھی

وقت کے چہروں پہ اک بے نام تغیر تھا

جیسے وہ میرے پیچھے کوئی دشمن دیکھ رہے ہوں

دور دور تک چاروں جانب ویرانی کا جال تنا تھا

میں اس منظر کی ہیبت سے خالی تھا

اور اپنے دل میں سوچ رہا تھا

آگے میرے دوست کھڑے ہیں

جنگل کے اس پار بے چینی سے

میرا رستہ دیکھ رہے ہیں

ان کی راس میں ڈوبی باتیں چاہت سے معمور نگاہیں

پھیلی باہیں میرے غم کا مرہم ہوں گی

سفر سعادت سن کر ان کی آنکھیں شبنم شبنم ہوں گی

جب میں ان کو وہ سب چیزیں جو میں کسی اور جہان وطن سے لڑ کر لایا ہوں

جب میں دوں گا تو ان کے چہرے خوشی کے مارے کھل اٹھیں گے

وہ پوچھیں گے

ابھی میں دل میں ان کے سوالوں کے جملے سوچ رہا تھا کہ

اک دم مجھ پر جانے کہاں سے کچھ سائے سے ٹوٹ پڑے

میرے سینے اور کندھوں میں ان کے ٹھنڈے خنجر اترے

خون بہا تو میں نے بچنے کی کوشش میں اپنے

دونوں ہاتھ بڑھائے لیکن میرے ہاتھ نہیں تھے

میری آنکھوں کے آگے سے ساری چیزیں ڈوب رہی تھیں

سائے مجھ پر جھپٹ کر وہ سب چیزیں لوٹ رہے تھے

جن کی خاطر میرے ساتھی جنگل کے اس پار کھڑے تھے

ایک دم سے بجلی سی چمکی

میں نے ان سایوں کو دیکھا

میں نے دیکھا اور پہچانا

وہ سب میرے اپنے تھے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

بولیے