وہ سب میرے اپنے تھے
میں تنہا تھا سرد ہوا تھی
رات کے پچھلے پہر کی کالی خاموشی تھی
وقت کے چہروں پہ اک بے نام تغیر تھا
جیسے وہ میرے پیچھے کوئی دشمن دیکھ رہے ہوں
دور دور تک چاروں جانب ویرانی کا جال تنا تھا
میں اس منظر کی ہیبت سے خالی تھا
اور اپنے دل میں سوچ رہا تھا
آگے میرے دوست کھڑے ہیں
جنگل کے اس پار بے چینی سے
میرا رستہ دیکھ رہے ہیں
ان کی راس میں ڈوبی باتیں چاہت سے معمور نگاہیں
پھیلی باہیں میرے غم کا مرہم ہوں گی
سفر سعادت سن کر ان کی آنکھیں شبنم شبنم ہوں گی
جب میں ان کو وہ سب چیزیں جو میں کسی اور جہان وطن سے لڑ کر لایا ہوں
جب میں دوں گا تو ان کے چہرے خوشی کے مارے کھل اٹھیں گے
وہ پوچھیں گے
ابھی میں دل میں ان کے سوالوں کے جملے سوچ رہا تھا کہ
اک دم مجھ پر جانے کہاں سے کچھ سائے سے ٹوٹ پڑے
میرے سینے اور کندھوں میں ان کے ٹھنڈے خنجر اترے
خون بہا تو میں نے بچنے کی کوشش میں اپنے
دونوں ہاتھ بڑھائے لیکن میرے ہاتھ نہیں تھے
میری آنکھوں کے آگے سے ساری چیزیں ڈوب رہی تھیں
سائے مجھ پر جھپٹ کر وہ سب چیزیں لوٹ رہے تھے
جن کی خاطر میرے ساتھی جنگل کے اس پار کھڑے تھے
ایک دم سے بجلی سی چمکی
میں نے ان سایوں کو دیکھا
میں نے دیکھا اور پہچانا
وہ سب میرے اپنے تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.