یاد نگر

MORE BYشفیق فاطمہ شعریٰ

    میں اوس بن کے برس جاؤں تیرے سبزے پر

    میں گیت بن کے تری وادیوں میں کھو جاؤں

    بس ایک بار بلا لے مجھے وطن میرے

    کہ تیری خاک کے دامن میں چھپ کے سو جاؤں

    شگفتہ گھاس میں یہ زرد زرد ننھے پھول

    نہ جانے کس لیے پگڈنڈیوں کو تکتے ہیں

    انہیں خبر ہی نہیں ان کو چننے والے آج

    گھروں سے دور کسی کیمپ میں سسکتے ہیں

    کئی گھرانوں کی فریاد اس میں ڈوب گئی

    اب اس کنوئیں پہ نہ آئے گی کوئی پنہاری

    کسان کھیت نہ سینچیں گے ایسے پانی سے

    ہری نہ ہوگی اسے پی کے کوئی پھلواری

    یہیں ندی کے کنارے اسے دبایا تھا

    مگر شبانوں کو وہ بارہا نظر آئی

    ہٹی جو ریت تو چمکا وہ چاند سا ماتھا

    چلی ہوا تو وہ ریشم سی زلف لہرائی

    میں تیرے پاؤں پڑوں ہاتھ روک لے قاتل

    اسے نہ مار جو تیری طرف ہمکتا ہے

    یہ تیغ کو بھی کھلونا سمجھنے والا ہے

    یہ لعل پھینک کے انگارہ چوس سکتا ہے

    کہا کسی نے کہ وہ جلد لوٹ آئیں گے

    کہا کسی نے کہ امید اب بہت کم ہے

    الٰہی ڈوبتے دل کو ذرا سہارا دے

    مرے چراغ کی لو آج کتنی مدھم ہے

    نبولی نیم کی پکی اب آئے گا ساون

    مگر یہ گیت اسے آہ کیسے یاد آیا

    وہ اپنی ماں سے لپٹ کر نہ رو سکے گا کبھی

    نہ سر پہ ہاتھ کبھی رکھ سکے گا ماں جایا

    سنا ہے نیند میں وہ چونک چونک پڑتے ہیں

    لہو کے داغ تھے جن پر وہ ہاتھ جلتے ہیں

    پڑوسیوں سے یہ کہہ دو وہ مشعلیں رکھ دیں

    کہ ایک گاؤں کے گھر ساتھ ساتھ جلتے ہیں

    الٰہی شام اب اس گاؤں میں نہ آنے پائے

    کہ اس کے آتے ہی دکھیائیں مل کے روتی ہیں

    درندے اپنے بھٹوں میں دہلنے لگتے ہیں

    ہوائیں کوہ سے ٹکرا کے جان کھوتی ہے

    دیے کے واسطے ننھے پناہ گیر نہ رو

    فلک پہ دیکھ وہ قندیل ماہ روشن ہے

    اسی فضا میں مرے چاند تو بھی ابھرے گا

    جو تو ہے ساتھ تو غربت کی راہ روشن ہے

    طلائی گھاس سے وادی میں تھا تلاطم سا

    ہوا میں نرم شعاعوں کی سرسراہٹ تھی

    نیا تھا چشمہ مہر اور نیا تھا رنگ سپہر

    ہر ایک گوشہ میں لیکن اجل کی آہٹ تھی

    ہوا نے دیپ بجھایا ہی تھا کہ نکلا چاند

    قلم کو تیز چلاؤ کہ یہ بھی ڈوب نہ جائے

    خود اپنے دل کے اجالے کا اعتبار نہیں

    کہ ایک بار یہ جائے تو پھر پلٹ کے نہ آئے

    یہ چاندنی کا اجالا یہ نیم شب کا سکوں

    سفید گنبد و در دودھ میں نہائے ہوئے

    ستارو کوئی کہانی کہو کہ رات کٹے

    نہ یاد آئیں مجھے روز و شب بھلائے ہوئے

    مأخذ :
    • کتاب : Silsila-e-makalmat (Pg. 274)
    • Author : Shafique Fatma Shora
    • مطبع : Educational Publishing House (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY