یہ بستیاں ویراں نہیں

ادا جعفری

یہ بستیاں ویراں نہیں

ادا جعفری

MORE BYادا جعفری

    نہیں یہ بستیاں ویراں نہیں

    اب بھی یہاں کچھ لوگ رہتے ہیں

    یہ وہ ہیں جو کبھی

    زخم وفا بازار تک آنے نہیں دیتے

    یہاں کچھ خواب ہیں

    جو سانس لیتے ہیں

    جوان خوابوں کو تم دیکھو تو ڈر جاؤ

    فلک آثار بام و در

    یہاں وقعت نہیں رکھتے

    کلاہ و زر یہاں قیمت نہیں رکھتے

    یہ کتنے لوگ ہیں

    بے نام ہیں بے لاگ ہیں

    بے ساختہ جینے کے طالب ہیں

    یہ دل کے بوجھ کا احوال

    اپنے حرف خود لکھنے کے طالب ہیں

    اجالے کی سخی کرنوں کو

    زنداں سے رہائی دو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY