یہ کیسی جنگ ہے

شارق عدیل

یہ کیسی جنگ ہے

شارق عدیل

MORE BYشارق عدیل

    یہ کیسی جنگ ہے جو اپنی منفعت کے لئے

    غریب ملکوں کی آزادیوں کو چھینتی ہے

    یہ کیسی جنگ ہے جس میں مقابلے کے بغیر

    نشانہ سادھ کے گولی چلائی جاتی ہے

    یہ کیسی جنگ ہے جس میں اسیر لوگوں پر

    اذیتوں کے لئے کتے چھوڑے جاتے ہیں

    یہ کیسی جنگ ہے جس میں بموں کی یورش سے

    سماعتیں بھی خدا کی پناہ چاہتی ہیں

    یہ کیسی جنگ ہے شہروں کی تنگ گلیاں بھی

    بھڑکتے شعلوں سے روشن دکھائی دیتی ہیں

    یہ کیسی جنگ ہے جس میں وفا پرستوں کی

    ہلاکتوں کی خبر بھی اڑائی جاتی ہے

    چلو یہ پوچھیں تباہی کے کاشت کاروں سے

    بنام امن کہاں تک لہو بہاؤ گے

    نکل کے دیکھو کبھی ایٹمی حصاروں سے

    تمام عالم انسانیت ہے شرمندہ

    یہ سوچو خون کے سوداگرو ذرا سوچو

    لہو کی ندیاں بہیں گی اگر زمینوں پر

    تمہاری کاشت کے پر ہول منظروں کو لیے

    تمہارے ملکوں کے شہروں کو بھی ڈبو دیں گے

    ہر ایک ظلم تمہیں اپنا یاد آئے گا

    پناہ ڈھونڈو گے تم رات کے اندھیروں میں

    مگر وہ رات بھی شعلوں میں ڈوب جائے گی

    یہ وقت تم پہ قیامت سے کم نہیں ہوگا

    تمہارے کرب کا ہم کو بھی غم نہیں ہوگا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے