یہ وہ بستی ہی نہیں

قیصر الجعفری

یہ وہ بستی ہی نہیں

قیصر الجعفری

MORE BY قیصر الجعفری

    زندگی تو مجھے کس موڑ پہ لے آئی ہے

    خواب کھلتے تھے جہاں برف وہاں چھائی ہے

    سو دریچے ہیں مگر شمع کسی پر بھی نہیں

    چاند نکلے مری راتوں کا مقدر بھی نہیں

    کیا کروں کیا نہ کروں ہاتھ میں پتھر بھی نہیں

    شیش محلوں کو کوئی غم بھی نہیں ڈر بھی نہیں

    لوگ گونگے ہیں بیاباں میں اذاں کیسے ہو

    لوگ قاتل ہیں علاج غم جاں کیسے ہو

    لوگ پتھر ہیں تو احساس زیاں کیسے ہو

    کس کو فرصت ہے جو پوچھے کہ میاں کیسے ہو

    رات جب ختم ہوئی تھی تو سحر لگتی تھی

    روشنی راہ گزر راہ گزر لگتی تھی

    زندگی کوچۂ جاناں کا سفر لگتی تھی

    اپنی منزل کہیں جنت کے ادھر لگتی تھی

    کچھ بھی آنکھوں میں نہیں اشک ندامت کے سوا

    کچھ بھی دامن میں نہیں داغ ملامت کے سوا

    کچھ بھی چہرے پہ نہیں گرد مسافت کے سوا

    اپنی دوکان میں سب کچھ ہے محبت کے سوا

    مآخذ:

    • کتاب : Agar Darya Mila Hota (Pg. 158)
    • Author : Qaisar-ul-Jafari
    • مطبع : Faran Publishers Mumbai (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY