aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ذخیرہ گھر مقفل ہیں

اعجاز گل

ذخیرہ گھر مقفل ہیں

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    دلچسپ معلومات

    (فنون، لاہور جولائی اگست 1973ء)

    گزرتے وقت کے ویراں جزیروں کی سزا پیشانیوں پر ثبت ہے

    آزردگی کے کیل جسموں میں گڑے ہیں

    بد نصیبی گردنوں کا طوق ہے

    اور محنتوں کے ہات خالی ہیں

    ہوا کے ساتھ گندم کی مہک شہروں میں اڑتی ہے

    ذخیرہ گھر مقفل ہیں

    مشقت کا بدل کڑوے کسیلے موسموں کا ذائقہ ہے

    ہم پرانی جھولیاں پھیلائے خواہش کے اندھیرے راستوں پر

    الٹے لٹکے چیختے ہیں

    اور خوش فہمی کی مٹی پر لکیریں کھینچتے ہیں

    آسماں کی سمت تکتے ہیں

    کہ شاید رات دن کے درمیانی فاصلوں کے ختم ہونے کی بشارت ہو

    دکھوں کے کاغذوں پہ سکھ عبارت ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے