زلزلہ آٹھ اکتوبر 2005

پیرزادہ قاسم

زلزلہ آٹھ اکتوبر 2005

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    اس روشن صبح کے دامن میں

    اک سورج قہر کا چمکا تھا

    اک تارا جی کا نغمہ تھا

    جو وادی وادی گونجا تھا

    اک پروائی تھی وحشت کی

    اک فطرت کا نقارا تھا

    نادیدہ تھا وہ دست اجل

    جو دشت و جبل لرزاتا تھا

    اور پاؤں تلے سے دھرتی کو

    بے وہم و گماں سرکاتا تھا

    اک کھیل رہا کچھ لمحوں کا

    کچھ لمحے تھے جو آئے گئے

    سب نوحے نیست کے نوحے تھے

    نابود کی تال پہ گائے گئے

    بستی اور بستی والے سب

    ملبے کے تلے دفنائے گئے

    اب جھیلنے والے جھیلیں گے

    جو دکھ ہے بچھڑنے والوں کا

    اک آگ فراق کی دہکی ہے

    یہ رستہ ہے انگاروں کا

    بس اس پر چلنا اور جلنا

    مقدور ہے غم کے ماروں کا

    لیکن یہ رنگ بدلتے دن

    لیکن یہ بھید بھری دنیا

    اسی راکھ سے خاک سے ابھرے گی

    کونپل کے سمان ہری دنیا

    یہ وقت عجب مداری ہے

    سو کھیل تماشے لاتا ہے

    اک منظر ہنسنے والا ہے

    اک منظر خون رلاتا ہے

    اور وہ جو سب کا والی ہے

    ہر منظر دیکھے جاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY