زمیں کا قرض

شاذ تمکنت

زمیں کا قرض

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    دلچسپ معلومات

    (خلیل الرحمن اعظمی کی یاد میں)

    زمیں کا قرض ہے ہم سب کے دوش و گردن پر

    عجیب قرض ہے یہ قرض بے طلب کی طرح

    ہمیں ہیں سبزۂ خود رو ہمیں ہیں نقش قدم

    کہ زندگی ہے یہاں موت کے سبب کی طرح

    ہر ایک چیز نمایاں ہر ایک شے پنہاں

    کہ نیم روز کا منظر ہے نیم شب کی طرح

    تماشہ گاہ جہاں عبرت نظارہ ہے

    زیاں بدست رفاقت کے کاروبار مرے

    اترتی جاتی ہے بام و در حیات سے دھوپ

    بچھڑتے جاتے ہیں ایک ایک کر کے یار مرے

    میں دفن ہوتا چلا ہوں ہر ایک دوست کے ساتھ

    کہ شہر شہر ہیں بکھرے ہوئے مزار مرے

    مأخذ :
    • کتاب : siip (Magzin) (Pg. 158)
    • Author : Nasiim Durraani
    • مطبع : Fikr-e-Nau (39 (Quarterly) )
    • اشاعت : 39 (Quarterly)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY