زمین ان کے لئے پھول کھلاتی ہے

عباس اطہر

زمین ان کے لئے پھول کھلاتی ہے

عباس اطہر

MORE BYعباس اطہر

    جب آگ جلی ناف کے نیچے تو زمیں پھیل گئی

    آگ جلی اور بدن پھیل گئے

    آنکھوں کی آوارگی بے رنگ ہوئی

    دھوپ ہوا چاندنی

    سب بستیوں میں خاک اڑی

    قافلے ہی قافلے تھے

    قافلے جو درد کے وطنوں سے چلے

    چلتے گئے اجنبی خوشبو کی طرف

    اس کی طرف جس کے لیے ساری کتابوں میں لکھا ہے

    وہ کبھی ہاتھ نہیں آتی کبوتروں سے چٹاتی ہے

    مگر رات کے دروازے پہ پہنچے تو ستارے نہ ملے

    لوگ ابھی صبح کی امید میں شب کاٹتے ہیں

    لوگ دکھی لوگ اکیلے ہیں

    انہیں راستہ دو سینے سے چمٹا لو

    ہر اک راستے میں جلتی ہوئی آگ بجھا دو کہ بدن

    پھیلتے جاتے ہیں زمیں تنگ ہوئی جاتی ہے

    جو آگ بجھانے کے لئے آئے تھے

    سب خاک ہوئے لوٹ نہیں پائے

    ہوا ان کے لئے دستکیں دیتی ہے

    زمیں ان کے لیے پھول کھلاتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : shab khuun (43) (rekhta website) (Pg. 8)
    • اشاعت : 1969

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY