زندہ رہنے کا یہ احساس

شہریار

زندہ رہنے کا یہ احساس

شہریار

MORE BYشہریار

    ریت مٹھی میں کبھی ٹھہری ہے

    پیاس سے اس کو علاقہ کیا ہے

    عمر کا کتنا بڑا حصہ گنوا بیٹھا میں

    جانتے بوجھتے کردار ڈرامے کا بنا

    اور اس رول کو سب کہتے ہیں

    ہوشیاری سے نبھایا میں نے

    ہنسنے کے جتنے مقام آئے ہنسا

    بس مجھے رونے کی ساعت پہ خجل ہونا پڑا

    جانے کیوں رونے کے ہر لمحے کو

    ٹال دیتا ہوں کسی اگلی گھڑی پر

    دل میں خوف و نفرت کو سجا لیتا ہوں

    مجھ کو یہ دنیا بھلی لگتی ہے

    بھیڑ میں اجنبی لگنے میں مزا آتا ہے

    آشنا چہروں کے بدلے ہوئے تیور مجھ کو

    حال سے ماضی میں لے جاتے ہیں

    کہنیاں زخمی ہیں اور گھٹنوں پر

    کچھ خراشوں کے نشاں

    سوندھی مٹی کی مہک کھینچے لیے جاتی ہے

    تتلیاں پھول ہوا چاندنی کنکر پتھر

    سب مرے ساتھ میں ہیں

    سانس بے خوفی سے لیتا ہوں میں

    مآخذ :
    • کتاب : sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 525)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY