زنداں کی ایک شام

فیض احمد فیض

زنداں کی ایک شام

فیض احمد فیض

MORE BYفیض احمد فیض

    شام کے پیچ و خم ستاروں سے

    زینہ زینہ اتر رہی ہے رات

    یوں صبا پاس سے گزرتی ہے

    جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات

    صحن زنداں کے بے وطن اشجار

    سرنگوں محو ہیں بنانے میں

    دامن آسماں پہ نقش و نگار

    شانۂ بام پر دمکتا ہے

    مہرباں چاندنی کا دست جمیل

    خاک میں گھل گئی ہے آب نجوم

    نور میں گھل گیا ہے عرش کا نیل

    سبز گوشوں میں نیلگوں سائے

    لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں

    موج درد فراق یار آئے

    دل سے پیہم خیال کہتا ہے

    اتنی شیریں ہے زندگی اس پل

    ظلم کا زہر گھولنے والے

    کامراں ہو سکیں گے آج نہ کل

    جلوہ گاہ وصال کی شمعیں

    وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا

    چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    RECITATIONS

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

    زنداں کی ایک شام فیض احمد فیض

    مآخذ:

    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 179)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY