زندگی کا وقفہ

اختر الایمان

زندگی کا وقفہ

اختر الایمان

MORE BY اختر الایمان

    رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹی

    پتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسے

    دیکھنا چاہتی ہیں شہر میں کیا ہوتا ہے

    میں ہمیشہ کی طرح ہونٹوں میں سگریٹ کو دبائے

    سونے سے پہلے خیالات میں کھویا ہوا ہوں

    دن میں کیا کچھ کیا اک جائزہ لیتا ہے ضمیر

    ایک سادہ سا ورق نامۂ اعمال ہے سب

    کچھ نہیں لکھا بجز اس کے پسے جاؤ یوں ہی

    کچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ انساں کا نصیب

    گیلی گوندھی ہوئی مٹی کا ہے اک تودہ سا

    دن میں سو شکلیں بنا کرتی ہیں اس مٹی سے

    کچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ چیونٹی دل ہے

    جوق در جوق جو انسان نظر آتے ہیں

    دانہ لے کر کسی دیوار پہ چڑھنا گرنا

    اور پھر چڑھنا چڑھے جانا یوں ہی شام و سحر

    کچھ نہیں لکھا بس اتنا کہ پسے جاؤ یوں ہی

    اور اندوہ تأسف خوشی آلام نشاط

    خود کو سو ناموں سے بہلاتے رہو چلتے رہو

    سانس رک جائے جہاں سمجھو وہیں منزل ہے

    اور اس دوڑ سے تھک جاؤ تو سگریٹ پی لو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    زندگی کا وقفہ نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY