عاجز ہنگن گھاٹی کا تعارف
عاجز ہنگن گھاٹی کا ذریعۂ معاش زندگی بھر غیر ادبی رہا اور ان کی بودوباش بھی ہنگن گھاٹ جیسے ادبی اعتبار سے بنجر علاقے میں تھی۔ عاجز صاحب کے دم سے اس علاقے میں شعر و ادب کی شمع روشن تھی۔ ان کے چلے جانے سے ہنگن گھاٹ میں پھر سے ایک سناٹا چھا گیا ہے۔
عاجز نے 1960ء کے بعد شعر گوئی کا آغاز کیا۔ ظاہر ہے کہ اس وقت تک جدیدیت کی لہر ودربھ میں بھی داخل ہوگئی تھی۔ سو وہ بھی اس سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے جدید لب و لہجے میں شعر کہنا شروع کیا۔ ان کے یہاں جدید اصطلاحات اور علامات کا استعمال خوبصورتی سے ملتا ہے۔ ان کا شعری مجموعہ ’’میٹھا نیم‘‘ 2003ء میں شائع ہوا۔