noImage

آل رضا رضا

1896 - 1978 | کراچی, پاکستان

ممتاز شاعرجنہیں لکھنوی شاعری کے شاعرانہ محاورں پر دسترس تھی

ممتاز شاعرجنہیں لکھنوی شاعری کے شاعرانہ محاورں پر دسترس تھی

ہم نے بے انتہا وفا کر کے

بے وفاؤں سے انتقام لیا

اس بے وفا سے کر کے وفا مر مٹا رضاؔ

اک قصۂ طویل کا یہ اختصار ہے

تم رضاؔ بن کے مسلمان جو کافر ہی رہے

تم سے بہتر ہے وہ کافر جو مسلماں نہ ہوا

ان کے ستم بھی کہہ نہیں سکتے کسی سے ہم

گھٹ گھٹ کے مر رہے ہیں عجب بے بسی سے ہم

بندشیں عشق میں دنیا سے نرالی دیکھیں

دل تڑپ جائے مگر لب نہ ہلائے کوئی

درد دل اور جان لیوا پرسشیں

ایک بیماری کی سو بیماریاں

قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہے

گھر پھونک تماشا دیکھ چکے اب جنگل جنگل رونا ہے

سمجھ تو یہ کہ نہ سمجھے خود اپنا رنگ جنوں

مزاج یہ کہ زمانہ مزاج داں ہوتا