آزاد امیدی کے اشعار
پشت پر مہر نبوت کی ضیاؤں والے
کر دیا نور حقیقت کو نمایاں تو نے
سنگ پاروں نے نبوت کی گواہی دی ہے
بے زبانوں کو بنایا ہے زباں داں تو نے
میرے احباب کا کردار سمجھتا ہوں میں
کیا کریں گے یہ برائی کے سوا میرے بعد
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere