362
Favorite

باعتبار

اس سے پوچھو عذاب رستوں کا

جس کا ساتھی سفر میں بچھڑا ہے

اپنے ہی خون سے اس طرح عداوت مت کر

زندہ رہنا ہے تو سانسوں سے بغاوت مت کر

تمہارا نام لیا تھا کبھی محبت سے

مٹھاس اس کی ابھی تک مری زبان میں ہے

تعجب کچھ نہیں داناؔ جو بازار سیاست میں

قلم بک جائیں تو سچ بات لکھنا چھوڑ دیتے ہیں

جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں

یہ کیسا شہر ہے ظالم کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں

ہے جسم سخت مگر دل بہت ہی نازک ہے

کہ جیسے آئینہ محفوظ اک چٹان میں ہے

تم آکے لوٹ گئے پھر بھی ہو یہیں موجود

تمہارے جسم کی خوشبو مرے مکان میں ہے

گھر کی ویرانیاں لے جائے چرا کر کوئی

اسی امید پہ دروازہ کھلا رکھا ہے

اس سے بڑھ کر تری یادوں کی کروں کیا تعظیم

تیری یادوں میں زمانے کو بھلا رکھا ہے

کسے دوست اپنا بنائیں ہم کسے دل کا حال سنائیں ہم

سبھی غیر ہیں سبھی اجنبی ترے گاؤں میں مرے شہر میں