Abbas Dana's Photo'

عباس دانا

پاکستان

اس سے پوچھو عذاب رستوں کا

جس کا ساتھی سفر میں بچھڑا ہے

ہے جسم سخت مگر دل بہت ہی نازک ہے

کہ جیسے آئینہ محفوظ اک چٹان میں ہے

اپنے ہی خون سے اس طرح عداوت مت کر

زندہ رہنا ہے تو سانسوں سے بغاوت مت کر

تمہارا نام لیا تھا کبھی محبت سے

مٹھاس اس کی ابھی تک مری زبان میں ہے

تم آکے لوٹ گئے پھر بھی ہو یہیں موجود

تمہارے جسم کی خوشبو مرے مکان میں ہے

جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں

یہ کیسا شہر ہے ظالم کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں

تعجب کچھ نہیں داناؔ جو بازار سیاست میں

قلم بک جائیں تو سچ بات لکھنا چھوڑ دیتے ہیں

گھر کی ویرانیاں لے جائے چرا کر کوئی

اسی امید پہ دروازہ کھلا رکھا ہے

اس سے بڑھ کر تری یادوں کی کروں کیا تعظیم

تیری یادوں میں زمانے کو بھلا رکھا ہے

کسے دوست اپنا بنائیں ہم کسے دل کا حال سنائیں ہم

سبھی غیر ہیں سبھی اجنبی ترے گاؤں میں مرے شہر میں