عبد الحق کے ذریعے کیے گئے تراجم
نجات کا راستہ
جارج ورگیج ککانادان
میں ایک راستہ ڈھونڈ رہا ہوں۔ نجات کا راستہ! چلتے چلتے بہت دیر ہو گئی۔ میں تھک گیا ہوں، سارا جسم دردسے چور ہے۔ پاؤں دکھ رہے ہیں۔ ہاتھ کیلے کے ریشہ کی مانند کمزور ہو گئے ہیں، گوشت اور مغز خشک ہو گئے ہیں، ہڈیاں اتنی پتلی اور سوکھی ہو گئی ہیں کہ وہ کسی
صبح سے صبح تک
ایم مکندن
اس کو اسٹیشن پر اتار کر ریل نے سیٹی دی اور’’چھک چھک چھک چھک‘‘ کے ساتھ شمال کی سمت چل دی۔ ریل تو آنکھوں سے اوجھل ہو گئی مگر اس کا پھینکا ہوا دھواں ابھی سامنے بکھرا ہوا تھا۔ کالا دھواں اپنی صورت بدلتا ہوا ا ٓسمان پر چھا گیا۔ دھواں دیکھ کر وہ خودبھی حیران
گزری یادیں
گزری یادوں کا آغاز ہوا۔ آغاز ہوا، یعنی ابھی شروع ہی ہوا۔ اس ایک لمحہ میں اس کی دو زندگیاں ختم ہوئیں۔ تیسری زندگی کا بھی آخری وقت آ پہنچا۔ بیچارے بندر نے ایک مندر کے سامنے برگد کے درخت کی شاخ پر بیٹھے بیٹھے سوچا۔ اس زندگی میں جو کچھ وہ حاصل
یشپورم لائبریری کی شکایت
عالی جناب! صدیوں پراناایک عظیم ادارہ ہے، یشپورم عوامی کتب خانہ۔ یہ ادارہ اب خستہ حالت میں ہے۔ موجودہ حالت اگرجاری رہی تواس کے تباہ ہونے میں زیادہ وقت نہ لگے گا۔ افسران اورعام لوگوں کی توجہ فوراً مبذول کرانے کے لیے میں یشپورم کتب خانہ کے بارے میں کچھ
فرشتہ موت
موت کے بارے میں مجھے سب سے پہلے کارتّونام کی ایک دائی نے ہی بتایاتھا۔ جھریاں پڑاہواچہرہ اورلٹکے ہوئے پستان والی کارتّودائی۔ بیس سال پہلے برسات کی بھیگی ہوئی ایک رات کومیں اپنی ماں سے لپٹاپڑاتھا۔ میرے چاروں طرف زچگی کی بوتھی۔ زچگی کی تکلیف سے بے
ہم شکل
جے نے اس تکلیف دہ سچائی کوسمجھ لیا تھا کہ اس کا ہی ہم شکل ایک دوسرا آدمی اس چھوٹے سے شہرمیں کہیں ہے۔ سائیکل والاکھڑی ڈھلان سے اترکرمشکل سے بریک پکڑے جے سے پوچھتا ہے، ’’تم ایم ہونہ؟ہماری ملاقات ہوئے کتنے دن ہوئے؟‘‘ سرخ آنکھیں، بڑی مونچھیں، چہرے پرچوٹ
فرد جرم کا جواب
میں کہ ستیہ روپ گزشتہ پندرہ سالوں سے آپ کے دفترمیں ایک چپراسی ہوں۔ میرا دل گواہ ہے کہ اس عرصے میں جوبھی کام دیاگیا، اسے میں نے پوری وفاداری اور لگن سے کیا۔ چالیس سال کی اس ملازمت میں میری جوبری حالت ہوئی ہے، اس کے لیے میں اپنی بدقسمتی کوہی کوستا ہوں،