عبد الحق کے ذریعے کیے گئے تراجم
تلچٹے
سویرے وہ باورچی خانہ میں کافی بنارہی تھی۔ اس کی نظرتلچٹوں پرپڑی۔ میزکے ایک کنارے پرتھوڑی دیر تک کرکر کی آوازکرتے ہوئے ڈراؤنے اندازسے وہ اسے گھورتے رہے اورپھرمیزکی دوسری طرف غائب ہوگئے۔ وہ کافی لے کرخواب گاہ کی طرف گئی۔ شوہرابھی تک جاگا نہیں تھا۔
دہلی
کناٹ پلیس کے بیچ کے پارک سے چاروں طرف دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں ایک پنجرے میں پھنسا ہوا ہوں۔ پارک کی دونوں طرف کی سڑکوں کو گھیرے ہوئے سیاہ رنگ میں رنگے کھردرے گول شکل کے اونچے ستون ایک سیدھی قطار میں کھڑے ہیں۔ سامنے کی دیواروں کی کھڑکیوں
فرد جرم کا جواب
میں کہ ستیہ روپ گزشتہ پندرہ سالوں سے آپ کے دفترمیں ایک چپراسی ہوں۔ میرا دل گواہ ہے کہ اس عرصے میں جوبھی کام دیاگیا، اسے میں نے پوری وفاداری اور لگن سے کیا۔ چالیس سال کی اس ملازمت میں میری جوبری حالت ہوئی ہے، اس کے لیے میں اپنی بدقسمتی کوہی کوستا ہوں،
ہم شکل
جے نے اس تکلیف دہ سچائی کوسمجھ لیا تھا کہ اس کا ہی ہم شکل ایک دوسرا آدمی اس چھوٹے سے شہرمیں کہیں ہے۔ سائیکل والاکھڑی ڈھلان سے اترکرمشکل سے بریک پکڑے جے سے پوچھتا ہے، ’’تم ایم ہونہ؟ہماری ملاقات ہوئے کتنے دن ہوئے؟‘‘ سرخ آنکھیں، بڑی مونچھیں، چہرے پرچوٹ
فرشتہ موت
موت کے بارے میں مجھے سب سے پہلے کارتّونام کی ایک دائی نے ہی بتایاتھا۔ جھریاں پڑاہواچہرہ اورلٹکے ہوئے پستان والی کارتّودائی۔ بیس سال پہلے برسات کی بھیگی ہوئی ایک رات کومیں اپنی ماں سے لپٹاپڑاتھا۔ میرے چاروں طرف زچگی کی بوتھی۔ زچگی کی تکلیف سے بے
یشپورم لائبریری کی شکایت
عالی جناب! صدیوں پراناایک عظیم ادارہ ہے، یشپورم عوامی کتب خانہ۔ یہ ادارہ اب خستہ حالت میں ہے۔ موجودہ حالت اگرجاری رہی تواس کے تباہ ہونے میں زیادہ وقت نہ لگے گا۔ افسران اورعام لوگوں کی توجہ فوراً مبذول کرانے کے لیے میں یشپورم کتب خانہ کے بارے میں کچھ
گزری یادیں
گزری یادوں کا آغاز ہوا۔ آغاز ہوا، یعنی ابھی شروع ہی ہوا۔ اس ایک لمحہ میں اس کی دو زندگیاں ختم ہوئیں۔ تیسری زندگی کا بھی آخری وقت آ پہنچا۔ بیچارے بندر نے ایک مندر کے سامنے برگد کے درخت کی شاخ پر بیٹھے بیٹھے سوچا۔ اس زندگی میں جو کچھ وہ حاصل