noImage

عبدالقادر

تصویری شاعری 1

آتا ہے یاد مجھ کو بچپن کا وہ زمانہ رہتا تھا ساتھ میرے خوشیوں کا جب خزانہ ہر روز گھر میں ملتے عمدہ لذیذ کھانے بے_محنت_و_مشقت حاصل تھا آب_و_دانہ بچوں کے ساتھ رہنا خوشیوں کے گیت گانا دل میں نہ تھی کدورت تھا سب سے دوستانہ مہندی کے پتے لانا اور پیس کر لگانا پھر سرخ ہاتھ اپنے ہر ایک کو دکھانا آواز ڈگڈگی کی جوں ہی سنائی دیتی اس کی طرف لپکنا بچوں کا والہانہ ہر سال پیارے ابو لاتے تھے ایک بکرا چارہ اسے کھلانا میدان میں گھمانا وہ دور جا چکا ہے آتا نہیں پلٹ کر بچپن کا وہ زمانہ لگتا ہے اک فسانہ دادی کو میں نے اک دن یہ مشورہ دیا تھا چہرے کی جھریوں کو آسان ہے مٹانا چہرے پہ آپ کے ہیں جو بے_شمار شکنیں آیا مری سمجھ میں ان سے نجات پانا کپڑے کی ساری شکنیں مٹتی ہیں استری سے آسان سا عمل ہے یہ استری چلانا اک گرم استری کو چہرے پہ آپ پھیریں عمدہ ہے میرا نسخہ ہے شرط آزمانا اک روز والدہ سے جا کر کہا کچن میں اب چھوڑیئے_گا امی یہ روٹیاں پکانا اک پیڑ روٹیوں کا دالان میں لگائیں اس پیڑ کو کہیں_گے روٹی کا کارخانہ شاخوں سے تازہ تازہ پھر روٹیاں ملیں_گی توڑیں_گے روٹیاں ہم کھائیں_گے گھر میں کھانا کیسی عجیب باتیں آتی تھیں میرے لب پر آج ان کو کہہ رہا ہوں باتیں ہیں احمقانہ وہ پیاری پیاری باتیں اب یاد آ رہی ہیں بچپن کا وہ زمانہ کیا خواب تھا سہانا

 

Added to your favorites

Removed from your favorites