ابوالکلام آزاد کے مضامین
مولانا آزاد کا اسلوب نثر
ڈاکٹر عابد حسین نے مولانا آزاد کے ادبی اسلوب کے تین دور قائم کئے ہیں، زعیمانہ، حکیمانہ اور ادیبانہ۔ سجاد انصاری نے کہاتھا کہ ’’اگر قرآن اردو میں نازل ہوتا تو اس کے لئے ابوالکلام کی نثر یا اقبالؔ کی نظم منتخب کی جاتی۔‘‘ حسرتؔ کو ابوالکلام کی نثر کے
اک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد
ہیں! یہ تم نے کیا کیا؟ ’’اک مس سیمیں بدن سے کرلیا لندن میں عقد۔‘‘ جی ہاں! حضرت! کر لیا لندن میں عقد! آخر کوئی وجہ؟ کیوں کر لیا لندن میں عقد؟ بس یہ نہ پوچھیے، کیوں؟ کس لیے؟ کیا آپ کو ہندوستان میں کوئی پری جمال ایسی نہیں ملتی تھی کہ آپ کو معشوقان یورپ
فن اخبار نویسی
یورپ اور امریکہ نے جو آج کل حیرت انگیز ترقی کی ہے، اور علوم و فنون، تہذیب و شائستگی میں جوان کا آج طوطی بول رہا ہے، ان میں من جملہ اور اسباب ترقی سے ایک بڑا سبب اخبار دیکھنا ہے، جسے اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک اور بچے سے لے کر بوڑھے تک روزانہ ہر ایک دیکھا
مولانا ابوالکلام آزاد: ایک کثیرالجہات شخصیت
مولانا ابوالکلام آزاد کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ۱۱ نومبر ۸۸۸۱ء کو ہوئی۔ ان کا شمار دنیا کے ان عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے جن کے نام اور کام رہتی دنیا تک باقی رہیں گے۔ مولانا آزاد کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت کا ہر پہلو روشن اور تابناک تھا۔
زمانہ قدیم میں کبوتروں کی ڈاک
(۱) اثر خامۂ مولوی ابوالکلام محی الدین احمد آزادؔ دہلوی مقیم کلکتہ بسکہ دارد اشتیاق دیدن مطلوب ما بال بر بال کبوتر برد مکتوب ما ریل کی حیرت انگیز ایجاد نے جن لوگوں کو کسی خبر کے جلد حاصل کرنے کا خوگر بنا دیا ہے وہ تعجب میں ہوں گے کہ زمانۂ
نامہ بر کبوتر!
عہد قدیم کی تار برقی اور طیارات! مشاطۂ عالم نے ہمیں کچھ اس طرح اپنی نئی نئی سحر ادائیوں اور دل فریبیوں میں محو کر لیا ہے کہ اس کے عہد گزشتہ کے بہت سے دلچسپ افسانے بالکل خواب و خیال ہو گئے ہیں، حتی کہ نئی دلچسپیوں کی مشغولیت میں کبھی ان کا خیال بھی