احمد رشید کے افسانے
مداری
تماش بینوں کا ہجوم گھیرے میں کھڑا تھا۔ مداری ڈگڈگی بجا بجا کر چاروں طرف گھوم رہا تھا۔ ’’ہاں تو مہربان، قدردان یا تو اپنی مرضی سے جموڑے بنو۔۔۔ ورنہ ہمیں جموڑے بنانا آتا ہے‘‘ اس نے نظر گھمائی ڈگڈگی کو تیزی سے بجانے لگا۔ ’’بھائیو جموڑہ ہماری مرضی
پرندے پکڑنے والا
اس کی زندگی کا راستہ جنگل کی جانب جاتا ہے لوگ زندہ رہنے کے لئے جنگل چھوڑ شہر کی طرف واپس ہوتے ہیں۔ شہر کے روشنیوں میں ڈوبنے سے پہلے وہ ایک میلی سی پوٹلی میں دو روٹی، ایک پیاز کی گانٹھ، نمک کی ڈلی اور دوہری مرچ باندھ لیتا۔ اناج کی پھٹکن ایک کاغذ کی
ویٹنگ روم
اپنا وطن کو چھوڑے ہوئے صدیاں بیت گئیں۔ اب تو ماہ و سال بھی یاد نہیں کہ آ باؤ أجداد کب جلا وطن ہوئے۔ غریب الوطن ہونا، جلاوطن ہونا، ہجرت ہونا ایک دیر ینہ روایت ہے یا انسا نی تہذیب کے مقدّرات کی کتاب میں مرقوم فیصلے۔ یہ بات سینہ بہ سینہ چلی آر ہی ہے
دو سال بعد
سورج جو نیزوں کی نوکوں پر کھڑا ہوکر اعلان کرتا ہے کہ پوری کائنات کو جلا کر ہی دم لوں گا۔ ہوا بھی یوں ہی آسمان اور زمین بھی سرخ ہوکر جب کالی ہو گئی تو وہ خود بھی جل کر سیاہ مائل ہو گیا۔ آسمان میں ستارے خاک میں دبی ہوئی چنگاریوں کی طرح چمک رہے تھے