Aleena Itrat's Photo'

مشاعروں میں مقبول نسائی لب و لہجے کی معروف شاعرہ

مشاعروں میں مقبول نسائی لب و لہجے کی معروف شاعرہ

1.01K
Favorite

باعتبار

اپنی مٹھی میں چھپا کر کسی جگنو کی طرح

ہم ترے نام کو چپکے سے پڑھا کرتے ہیں

کوئی آواز نہ آہٹ نہ کوئی ہلچل ہے

ایسی خاموشی سے گزرے تو گزر جائیں گے

ٹھیک ہے جاؤ تعلق نہ رکھیں گے ہم بھی

تم بھی وعدہ کرو اب یاد نہیں آؤ گے

زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے

اپنے ہونے کی کھبر سب سے چھپا لی میں نے

تجھ کو آواز دوں اور دور تلک تو نہ ملے

ایسے سناٹوں سے اکثر مجھے ڈر لگتا ہے

ابھی تو چاک پہ جاری ہے رقص مٹی کا

ابھی کمہار کی نیت بدل بھی سکتی ہے

ہر ایک سجدے میں دل کو ترا خیال آیا

یہ اک گناہ عبادت میں بار بار ہوا

جب بھی فرصت ملی ہنگامۂ دنیا سے مجھے

میری تنہائی کو بس تیرا پتہ یاد آیا

جن کے مضبوط ارادے بنے پہچان ان کی

منزلیں آپ ہی ہو جاتی ہیں آسان ان کی

ہجر کی رات اور پورا چاند

کس قدر ہے یہ اہتمام غلط

اداسی شام تنہائی کسک یادوں کی بے چینی

مجھے سب سونپ کر سورج اتر جاتا ہے پانی میں

ہم ہوا سے بچا رہے تھے جنہیں

ان چراغوں سے جل گئے شاید

بعد مدت مجھے نیند آئی بڑے چین کی نیند

خاک جب اوڑھ لی اور خاک بچھا لی میں نے

مرے وجود میں شامل تھا وہ ہوا کی طرح

سو ہر طرف تھا مرے بس مری نظر میں نہ تھا

جانے کب کیسے گرفتار محبت ہوئے ہم

جانے کب ڈھل گئے اقرار میں انکار کے رنگ

پھر زمیں کھینچ رہی ہے مجھے اپنی جانب

میں رکوں کیسے کے پرواز ابھی باقی ہے

بن آواز پکاریں ہر دم نام ترا

شاید ہم بھی پاگل ہونے والے ہیں

شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئے

بس اک دعا کا شجر تھا جو بے ثمر نہ ہوا

عجب سی کشمکش تمام عمر ساتھ ساتھ تھی

رکھا جو روح کا بھرم تو جسم میرا مر گیا

دل کے گلشن میں ترے پیار کی خوشبو پا کر

رنگ رخسار پہ پھولوں سے کھلا کرتے ہیں

بند رہتے ہیں جو الفاظ کتابوں میں صدا

گردش وقت مٹا دیتی ہے پہچان ان کی

اب بھی اکثر شب تنہائی میں کچھ تحریریں

چاند کے عکس سے ہو جاتی ہیں روشن روشن

وہ اک چراغ جو جلتا ہے روشنی کے لیے

اسی کے زیر تحفظ ہے تیرگی کا وجود

عیاں تھے جذبۂ دل اور بیاں تھے سارے خیال

کوئی بھی پردہ نہ تھا جب کے تھے حجاب میں ہم

کسی کے واسطے تصویر انتظار تھے ہم

وہ آ گیا پہ کہاں ختم انتظار ہوا

موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں

ہر حسیں منظر بہت جلدی بدل جاتا ہے کیوں

کوئی ملا ہی نہیں جس سے حال دل کہتے

ملا تو رہ گئے لفظوں کے انتخاب میں ہم

خواہشیں خواب دکھاتی ہیں ترے ملنے کا

خواب سے کہہ دے کہ تعبیر کی صورت آئے

گہرے سمندروں میں اترنے کی لے کے آس

بیٹھے ہوئے ہے ایک کنارے ہمارے خواب

بندشوں کو توڑنے کی کوششیں کرتی ہوئی

سر پٹکتی لہر تیری عاجزی اچھی لگی

اندھیری شب کا یہ خواب منظر مجھے اجالوں سے بھر رہا ہے

یہ رات اتنی طویل کر دے کہ تا قیامت سحر نہ آئے

کچھ کڑے ٹکراؤ دے جاتی ہے اکثر روشنی

جوں چمک اٹھتی ہے کوئی برق تلواروں کے بیچ

ذات میں جس کی ہو ٹھہراؤ زمیں کی مانند

فکر میں اس کی سمندر کی سی وسعت ہوگی

کوزہ گر نے جب میری مٹی سے کی تخلیق نو

ہو گئے خود جذب مجھ میں آگ اور پانی ہوا