134
Favorite

باعتبار

نئی نسلوں کے ہاتھوں میں بھی تابندہ رہے گا

میں مل جاؤں گا مٹی میں قلم زندہ رہے گا

سن رہا ہوں کہ وہ آئیں گے ہنسانے مجھ کو

آنسوؤ تم بھی ذرا رنگ جمائے رکھنا

مجھ کو جنت کے نظارے بھی نہیں جچتے ہیں

شہر جاناں ہی تصور میں بسا ہے صاحب

دل کشی تھی انسیت تھی یا محبت یا جنون

سب مراحل تجھ سے جو منسوب تھے اچھے لگے

حسن کی دل کشی پہ ناز نہ کر

آئنے بد نظر بھی ہوتے ہیں

یوں نبھاتا ہوں میں رشتہ آلوکؔ

بے گناہی کی سزا ہو جیسے

پیار کا دونوں پہ آخر جرم ثابت ہو گیا

یہ فرشتے آج جنت سے نکالے جائیں گے

واعظ سفر تو میرا بھی تھا روح کی طرف

پر کیا کروں کہ راہ میں یہ جسم آ پڑا

مرے لیے ہیں مصیبت یہ آئنہ خانے

یہاں ضمیر مرا بے نقاب رہتا ہے

دھاوا بولے گا بہت جلد خزاں کا لشکر

شاخ کو نیزہ کروں پھول کو تلوار کروں

حد امکان سے آگے میں جانا چاہتا ہوں پر

ابھی ایمان آدھا ہے ابھی لغزش ادھوری ہے

ایک عمر سے تجھے میں بے عذر پی رہا ہوں

تو بھی تو پیاس میری اے جام پی لیا کر