Ameer Imam's Photo'

امیر امام

1984 | سنبھل, ہندوستان

ہندوستانی غزل کی نئی نسل کی ایک روشن آواز

ہندوستانی غزل کی نئی نسل کی ایک روشن آواز

غزل

بن کے سایہ ہی سہی سات تو ہوتی ہوگی

امیر امام

خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہے

امیر امام

شہر میں سارے چراغوں کی ضیا خاموش ہے

امیر امام

مزید اک بار پر بار_گراں رکھا گیا ہے

امیر امام

کبھی تو بنتے ہوئے اور کبھی بگڑتے ہوئے

امیر امام

وہ معرکہ کہ آج بھی سر ہو نہیں سکا

امیر امام

کاندھوں سے زندگی کو اترنے نہیں دیا

امیر امام

کہ جیسے کوئی مسافر وطن میں لوٹ آئے

امیر امام

یوں مرے ہونے کو مجھ پر آشکار اس نے کیا

امیر امام

یہ کار_زندگی تھا تو کرنا پڑا مجھے

امیر امام

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI