aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

امیر نہٹوری

1968 | بجنور, انڈیا

امیر نہٹوری کے اشعار

درد نے لی انگڑائی ایسی

زخم کا اک اک ٹانکا ٹوٹا

فرقت کی شب خاموشیاں زخموں کی پھر انگڑائیاں

آنکھیں جب اپنی نم ہوئیں بے چارگی اچھی لگی

ہوگی نہ چارہ گر تری تدبیر کارگر

ہم کو خود اپنے زخموں کی چاہت ہے آج کل

وقار شوق سے گر کر بھی وار مت کرنا

ملے جو زخمی پرندہ شکار مت کرنا

دل کے زخموں کو سجانے کا ہنر رکھتا ہوں

مستقل میں تری یادوں کا سفر رکھتا ہوں

روح سے لپٹے درد کے منظر

ٹوٹ رہے ہیں زخم کے پیکر

ہم اپنے زخموں پہ رکھ لیں نمک ضروری ہے

دیار عشق میں ان کی مہک ضروری ہے

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے