ارشد منیم کے افسانے
الوداع
سردی کا موسم اپنی شان وشوکت کچھ زیادہ ہی دکھا رہا تھا۔ سرد ہوائیں جسم کو چیرتی ہوئی گزرتی تھیں۔ گرم کپڑے پہننے کے باوجود یوں محسوس ہوتا تھا جیسے رگوں میں خون جم گیا ہو۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد میں انگیٹھی کے پاس بیٹھا اپنے جسم کو گرما رہا تھا۔ میری
مہربان
افسانے کی آخری لائن ٹائپ کرنے کے بعد فیاض نے کمپیوٹر پر فائل محفوظ کی،دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت والی انگلی سے اپنی آنکھوں کو مسلتے ہوئے ایک لمبی سانس لے کروہ بڑبڑایا۔ ”ہو گیا یہ افسانہ بھی ٹائپ.......طویل افسانہ تھا،پتہ نہیں لوگ اتنے لمبے لمبے