Ashhad Bilal Ibn-e-chaman's Photo'

اشہد بلال ابن چمن

1980 | متحدہ عرب امارات

آج بھی نقش ہیں دل پر تری آہٹ کے نشاں

ہم نے اس راہ سے اوروں کو گزرنے نہ دیا

آؤ تو میرے صحن میں ہو جائے روشنی

مدت گزر گئی ہے چراغاں کئے ہوئے

یاد رکھنا بھی اک عبادت ہے

کیوں نہ ہم ان کا حافظہ ہو جائیں

اک لفظ یاد تھا مجھے ترک وفا مگر

بھولا ہوا ہوں ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی

تمام دن کی مشقت بھری تکان کے بعد

تمام رات محبت سے پھر جگاؤں اسے

زندگی کی حقیقت عجب ہو گئی

آج کل ہو رہی ہے بسر خواب میں

سویرا لے کے آتا ہے مرے خوابوں کی تعبیریں

مگر جب شام ہوتی ہے تو ان کی یاد آتی ہے

ہوش و حواس کھونے لگا ہوں فراق میں

تنہائیوں نے ایسا مقفل کیا مجھے